Viral illnesses (Urdu) – وائرسوں سے ہونے والی بیماریاں

  • English

    اہم نقاط
    Key points

    • وائرل بیماریاں یعنی وائرسوں کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں بچوں میں بہت عام ہیں اور چائلڈ کيئر، کنڈرگارٹن یا سکول میں آسانی سے پھیلتی ہیں۔
    • بچوں کے لیے زندگی کے پہلے چند سالوں میں فی سال 12 تک وائرل انفیکشنز ہونا معمول کی بات ہے؛ ایسا لگ سکتا ہے جیسے وہ ہر وقت ہی بیمار رہتے ہوں۔
    • وائرل بیماریوں کے علاج میں اینٹی بائیوٹکس سے مدد نہیں ملتی۔ بہترین علاج گھر پر آرام کرنا ہے تاکہ جسم انفیکشن سے نجات پا سکے۔
    • ویکسینیشن بہت سے خطرناک وائرسوں کی روک تھام کرتی ہے جیسے خسرہ، ممپس (کن پیڑے)، روبیلا (جرمن خسرہ) اور چکن پاکس (کاکڑا لاکڑا)۔

    وائرل بیماریوں سے کیا مراد ہے؟
    What are viral illnesses

    وائرل بیماری سے مراد ایسا انفیکشن ہے جو وائرس کہلانے والے جراثیم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وائرس بہت سی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جیسے عام نزلہ زکام، برونکیولائٹس، ٹونسیلائٹس، کان میں انفیکشن، گیسٹرو اینٹرائٹس، فلو (انفلوئنزا)، ممپس (کن پیڑے) اور چکن پاکس (کاکڑا لاکڑا)۔ وائرسوں کی سینکڑوں مختلف قسمیں ہیں؛ یہ جاننا بالعموم اہم نہیں ہوتا کہ آپ کے بچے کو کونسا وائرس لگا ہے۔

    جب آپ کا بچہ چھوٹا ہو تو شاید آپ کو لگتا ہو کہ وہ ہمیشہ ہی بیمار رہتا ہے – یعنی ایک وائرس سے شفایاب ہونے کے بعد جلد ہی کوئی اور وائرس لگ جاتا ہے۔ صحت مند بچوں کو زندگی کے پہلے چند سالوں میں فی سال 12 تک وائرل انفیکشنز ہونا عام بات ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اور اس کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، بیماریوں کے درمیان وقفہ بڑھنا چاہیے۔

    عام وائرل بیماریوں کے آثار اور علامات
    Signs and symptoms of common viral illnesses

    آپ کے بچے کے وائرل انفیکشن کی علامات وائرس کی قسم پر منحصر ہوں گی۔ وائرل بیماریوں کی عام ترین علامات یہ ہیں:

    • بخار ( درجہ حرارت 38°C یا اس سے زیادہ)
    • تھکاوٹ اور زیادہ سونے کی خواہش (سستی)
    • کھانے کو جی نہیں چاہتا
    • عام خرابئ طبیعت۔

    بہت سے وائرس یہ علامات بھی پیدا کرتے ہیں:

    • ناک بند ہونا یا ناک بہنا
    • آنکھوں میں سرخی یا پانی آنا
    • گلے میں درد یا خراش
    • جلد پر ریش (دھبے یا دانے) جو انگلی سے دبانے کے بعد ایک سیکنڈ کے لیے سفید (پھیکے) ہو جاتے ہیں۔
    • کھانسی اور/یا چھینکیں
    • الٹی اور/یا دست
    • پیٹ میں درد
    • جسم میں درد۔

    کیا وائرل بیماریاں متعدّی ہوتی ہیں؟
    Are viral illnesses contagious

    تقریباً تمام وائرل بیماریاں متعدّی ہیں یعنی ایک انسان سے دوسروں کو لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وائرس چائلڈ کیئر اور سکولوں میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔

    وائرسوں کے پھیلنے کے دو سب سے عام طریقے یہ ہیں:

    1. ہوا میں یا سطحوں پر موجود باریک قطروں مثلاً کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلنے والے قطروں کے ذریعے۔
    2. متاثرہ شخص کے تھوک، بلغم، الٹی یا پاخانے کو چھونے سے۔

    وائرسوں کے پھیلاؤ کو روکنا
    Stopping the spread of viruses

    بیماری کے دوران بچے کو گھر میں رکھنے سے وائرسوں کا پھیلاؤ کم ہوتا ہے۔ گھر کے اندر، اچھا حفظان صحت گھر کے دوسرے لوگوں کو وائرس سے بچانے میں مدد کرے گا۔ اس میں یہ شامل ہے:

    • باقاعدگی سے صابن یا الکحل ہینڈ سینیٹائزر سے ہاتھ صاف کرنا
    • دوسروں کے استعمال کیے ہوئے کپ یا چھری کانٹے چمچ استعمال نہ کرنا
    • اپنے بچے کو ٹشو یا کہنی کی اوٹ میں کھانسنے یا چھینکنے کی ترغیب دینا
    • اپنے بچے کو سکھانا کہ وہ استعمال کے بعد ٹشوز کو کوڑے دان میں پھینکے اور پھر ہاتھ دھوئے۔

    اگر ممکن ہو تو بیماری کے دوران بچے کو شیرخوار بچوں اور بوڑھے لوگوں سے دور رکھیں۔

    گھر میں وائرل بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی دیکھ بھال
    How to care for viral illnesses at home

    اینٹی بائیوٹکس وائرس کا علاج نہیں کر سکتیں۔ وائرل بیماریوں کا بہترین علاج گھر پر خوب آرام کرنا ہے۔ اس سے بچے کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد ملے گی۔

    بیماری کے دوران بچے کو آرام دلانے کے کچھ آسان طریقے یہ ہیں:

    • جب بچہ بیدار ہو تو اسے بار بار تھوڑی مقدار میں پینے کی چیزیں دیں۔ اندازے کی خاطر بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ہر 15 منٹ بعد ایک گھونٹ مشروب پینا چاہیے۔ اس سے آپ کے بچے کے جسم کو انفیکشن سے لڑنے کے لیے توانائی ملے گی اور پانی کی کمی سے بچاؤ ہو گا۔
      • مشروبات کی قسم آپ کے بچے کی عمر پر منحصر ہے۔ شیر خوار بچوں کو ماں کا دودھ یا فارمولا دودھ یا الیکٹرولائٹس جیسے ری ہائیڈریشن فلوئیڈز دینے چاہیئں۔ بڑے بچوں کو پانی، جوس یا دودھ پینا چاہیے۔ اگر بچہ صرف پانی پی رہا ہو تو یقینی بنائیں کہ وہ کچھ سادہ غذائیں جیسے کریکر، جیلی، دہی، congee (چاولوں کا دلیہ) یا سوپ بھی لے۔
    • بند ناک کو کھولنے میں مدد کے لیے سیلائن نیزل سپرے (ناک کے لیے نمین پانی کا سپرے) استعمال کریں – خاص طور پر شیر خوار بچوں کے لیے۔ اگر بچے کی ناک کھلی ہو تو اسے دودھ پینے میں آسانی ہوگی۔
    • بچے کو کافی آرام کرنے کی ترغیب دیں۔
    • بچے کو درد سے آرام دلانے کے لیے یا اس کی حالت خراب لگنے، چڑچڑا پن یا سستی ظاہر ہونے پر پیراسیٹامول یا آئبوپروفین دیں۔ بچے کو اسپرین نہ دیں۔ لیبل کو دھیان سے پڑھ کر درست ڈوز معلوم کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ نے پہلے ہی بچے کو پیراسیٹامول یا آئبوپروفین والی کوئی اور مصنوعات (جیسے زکام اور فلو کی کچھ دوائیاں) نہیں دی ہیں۔
      • اگر بچے کو بخار ہو لیکن اس کی حالت خراب نہ لگتی ہو یا وہ بے چین نہ ہو تو اسے درد کی دوائی نہ دیں۔ بخار جسم کو قدرتی طور پر صحتیاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
    • دوسرے علاج استعمال نہ کریں سوائے اس کے کہ کوئی ڈاکٹر یا ہیلتھ کیئر پروفیشنل ان کا مشورہ دے۔

    بیماری کے دوران بچوں کی بھوک ختم ہو جانا عام ہے۔ اگر بچہ کچھ دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دے تو پریشان نہ ہوں؛ طبیعت بہتر ہو جانے پر وہ پھر سے کھانا شروع کر دے گا۔

    چند دنوں میں طبیعت میں بہتری شروع ہو جانی چاہیے لیکن سب کچھ معمول پر آنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ کھانسی زیادہ دیر تک چل سکتی ہے۔ اگر ویسے بچے کی طبیعت بہتر ہو گئی ہے تو کھانسی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    وائرل ریش (جلد پر دھبّے یا دانے) ظاہر ہونا عام ہے جو عام طور پر کچھ دنوں تک رہتا ہے۔

    مدد کب طلب کی جائے
    When to get help

    اس صورت میں ایمبولنس (000) کو کال کریں کہ:

    • بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو اور وہ سانس لینے کی کوشش میں ہانپ رہا ہو۔
    • بچے کی جلد نیلی یا گرے (سلیٹی) نظر آتی ہو۔
    • بچہ جاگتا نہ ہو یا جواب نہ دیتا ہو۔
    • بچے کو ریش (جلد پر دھبّے یا دانے) ہو جس کا رنگ دبانے سے بدلتا نہ ہو (پھیکا نہ پڑتا ہو)۔

    اس صورت میں ہسپتال جائیں کہ:

    • بچہ تمام وقت سست رہے اور کبھی بھی ایکدم توانائی آنے کا مظاہرہ نہ کرتا ہو۔
    • بچے کو ریش ہو اور سر میں درد، گردن میں اکڑاؤ یا کمر میں درد ہو۔
    • بچے کی عمر تین ماہ یا اس سے کم ہو اور وہ ٹھیک طرح دودھ نہ پی رہا ہو۔

    اس صورت میں ڈاکٹر یا ہیلتھ پروفیشنل کے پاس جائیں کہ:

    • بچے کی رنگت پھیکی لگتی ہو۔
    • بچے کو درد (یا سر میں درد) ہو جو پیراسیٹامول یا آئبوپروفین سے بہتر نہ ہو۔
    • بچے کو الٹیاں اور دست آ رہے ہوں۔
    • بچہ پینے کی چیزیں نہ لے رہا ہو اور آئسی پولز بھی نہ چوستا ہو۔
    • بچے کی عمر تین ماہ سے کم ہو اور اسے بخار ہو (درجہ حرارت 38°C یا اس سے زیادہ)۔
    • بچے میں پانی کی کمی کی علامات ہوں جیسے معمول سے کم پیشاب کرنا، ٹھنڈے ہاتھ پاؤں، دھنسی ہوئی آنکھیں اور بڑھتی ہو‏ئی سستی۔

    اس صورت میں گھر پر ہی اپنے بچے کا خیال رکھیں اگر:

    • وہ کافی مقدار میں پینے کی چیزیں لے رہا ہو اور اتنا پیشاب کر رہا ہو جو اس کے معمول کے پیشاب کے آدھے سے زیادہ ہو۔
    • اسے سانس لینے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔
    • بیچ بیچ میں بخار اترتا ہو اور بچہ ایکدم توانائی آنے کا مظاہرہ کرتا ہو۔
    • بچہ سات دنوں کے اندر اندر بہتر ہونا شروع کر دے۔

    وائرل بیماریوں کے بارے میں عام سوالات
    Common questions about viral illnesses

    کیا مجھے وائرس کی تشخیص کے لیے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے؟
    Should I take my child to a doctor to diagnose their virus

    اگر بچے میں صرف ہلکی علامات ہوں جو پیراسیٹامول یا آئبوپروفین سے بہتر ہو جاتی ہیں، اور وہ سات دنوں کے اندر اندر بہتر ہونا شروع کر دے تو آپ کو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت نہیں۔ زیادہ تر وائرسوں میں دیکھ بھال کا طریقہ ایک ہی ہے، اس لیے ڈاکٹر عام طور پر یہ پتہ چلانے کے لیے ٹیسٹ نہیں کرتے کہ آپ کے بچے کو کونسا وائرس ہے۔

    کیا میرے بچے کو اینٹی وائرل دوائی کی ضرورت ہے؟
    Does my child need antiviral medicine

    مؤثر اینٹی وائرل علاج کوئی اتنے زیادہ نہیں ہیں اور ڈاکٹر صرف غیر معمولی کیسوں میں یہ علاج تجویز کرتے ہیں۔

    میں اپنے بچے کو بار بار وائرس لگنے سے کیسے بچا سکتا/سکتی ہوں؟
    How can I stop my child from getting so many viruses

    عام وائرل انفیکشنوں سے بچے کو بچانا ناممکن ہے۔ بچے کی وائرل بیماری کا خطرہ کم کرنے کے بہترین طریقے یہ ہیں کہ اسے غذائیت سے بھرپور خوراک دی جائے، ویکسینز لگوائی جائیں، سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے میں مدد دی جائے، اچھا حفظان صحت سکھایا جائے اور بیمار بچوں سے دور رکھا جائے۔

    جب بچے کو زکام ہو تو ہم اسے آرام دلانے کے لیے کونسے قدرتی علاج استعمال کروا سکتے ہیں؟
    What natural remedies can I give my child to help them feel better when they have a cold

    ہم پیشہ ورانہ طبی مشورے کے بغیر بچے کو کوئی قدرتی علاج (بشمول ویپرائزرز) استعمال کروانے کا مشورہ نہیں دیتے۔ نسخے کے بغیر ملنے والی مصنوعات جیسے وٹامنز یا سپلیمنٹس ضروری نہیں ہیں اور ان کے زکام جیسے وائرسوں کی روک تھام یا علاج میں مؤثر ہونے کے یا تو کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہیں یا محدود ثبوت ہیں۔

    بڑے بوڑھوں کے اکثر ٹوٹکے جیسے بدن گرم رکھنا، گیلے بالوں کے ساتھ بستر میں نہ جانا، باہر ہمیشہ جوتے پہننا، زکام سے بچانے کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ یہ ٹوٹکے پہلے زمانوں میں مقبول تھے جب سائنسدانوں نے یہ دریافت نہیں کیا تھا کہ زکام وائرسوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    میرے بچے کو دمہ ہے؛ کیا مجھے اسے وائرس لگنے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے؟
    My child has asthma; should I be worried about them catching a virus

    بعض اوقات وائرس کی وجہ سے دمہ چِھڑ سکتا ہے (اگر آپ کے بچے کو دمے کی تشخیص ہوئی ہے) یا وِیزنگ(سانس کی سیٹی جیسی آواز) شروع ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو عام معمول کے مطابق دمے کا علاج کریں۔ اگر وِیزنگ نئی چیز ہو اور بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

    کیا بچوں کو COVID-19 ہو سکتا ہے؟
    Can children get COVID-19

    بچوں کو COVID-19 ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں اس کی علامات زکام پیدا کرنے والے دوسرے وائرسوں جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    میرے بچے کو وائرس کے بعد کتنی دیر تک چائلڈ کیئر یا سکول سے گھر رہنا چاہیے؟
    How long should my child stay home from childcare or school after a virus

    اگر آپ کے بچے کو کوئی وائرل بیماری ہوئی ہے تو اسے ٹھیک ہو جانے تک چائلڈ کیئر، کنڈرگارٹن یا سکول نہ بھیجیں اور گھر میں رکھیں۔

    مزید معلومات کے لیے
    For more information

    رائل چلڈرنز ہاسپٹل کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے مرتّب کیا۔ ہم RHC کے صارفین اور کیئررز کے تعاون پر شکرگزار ہیں۔

    اپریل 2025 میں نظرثانی کی گئی

    براہ کرم ہمیشہ رجسٹرڈ اور حال میں پریکٹس کرتے ہوئے معالج سے تازہ ترین مشورہ حاصل کریں۔