اہم نقاط
Key points
- کروپ ایک وائرل انفیکشن ہے جو سانس کے راستے کو تنگ کرتا ہے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
- جن بچوں کو کروپ ہو، ان کے سانس کی ایک خاص طرح کی اونچی آواز ہو سکتی ہے جسے سٹرائڈر (stridor) کہا جاتا ہے یعنی بھاری اور بھونکنے جیسی کھانسی جو اچانک شروع ہو سکتی ہے - اور اکثر رات کو ہوتی ہے۔
- کروپ میں مبتلا بچے کی دیکھ بھال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پرسکون رکھا جائے اور کافی مقدار میں پینے کی چیزیں دی جائیں۔ ڈاکٹر عام طور پر سانس کے راستے کی سوجن کو کم کرنے کے لیے سٹیرائڈز (steroids) تجویز کرتے ہیں۔
- آپ کا ایسی علامات پر مستقل نظر رکھنا اہم ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کے لیے سانس لینا مشکل ہو رہا ہے جیسے پسلیوں کے نیچے کا حصہ اندر کھنچنا۔
- اگر بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو یا سانس کے ساتھ اونچی آواز آ رہی ہو، رنگت بہت پھیکی ہو اور بچہ غنودگی کا شکار نظر آتا ہو، ہونٹ نیلے ہوں یا بچہ نگل نہ سکتا ہو تو فوری طور پر ایمبولینس (000) کو کال کریں۔
کروپ سے کیا مراد ہے؟
What is croup
کروپ ایک وائرس کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن ہے۔ کروپ کی وجہ سے نرخرہ (larynx) اور ہوا کی نالی (trachea) سوج جاتی ہے، سانس کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
چھ ماہ سے چھ سال کی عمر کے بچوں کو کروپ ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ کچھ بچوں کو سانس کے راستے کی سوجن کم کرنے اور سانس لینے میں آسانی کے لیے سٹیرائڈز سے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کروپ کی علامات تیزی سے بگڑ سکتی ہیں، اس لیے بچے پر سارا وقت نظر رکھنا اہم ہے۔ اگر بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو یا سانس کے ساتھ اونچی آواز آ رہی ہو، رنگت بہت پھیکی ہو اور بچہ غنودگی کا شکار نظر آتا ہو، ہونٹ نیلے ہوں یا بچہ نگل نہ سکتا ہو تو فوری طور پر ایمبولینس (000) کو کال کریں۔
کروپ کے آثار اور علامات
Signs and symptoms of croup
کروپ بالعموم عام زکام کی طرح شروع ہوتا ہے اور علامات ہلکی ہوتی ہیں جیسے بخار، ناک بہنا اور کھانسی۔ تاہم 'سٹرائڈر' یعنی سانس کی اونچی آواز اکثر اچانک شام کو یا رات کے دوران شروع ہوتی ہے جس کی وجہ سانس کے راستے کی تنگی ہوتی ہے۔ بچے کے سانس اندر کھینچتے
ہوئے باریک سیٹی جیسی، اونچی پِچ والی آواز آتی ہے۔
دیگر عام علامات میں یہ شامل ہیں:
- سمندری جانور سیل کی آواز جیسی بھاری، بھونکنے جیسی کھانسی
- کھردری یا بجری جیسی آواز۔
اس پر منحصر کہ سانس کا راستہ کتنا تنگ ہے، کچھ بچوں کو سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے، اور ہر سانس کے ساتھ ان کی پسلیوں کے درمیان ِجلد یا گلے سے نیچے کی ِجلد اندر کو کھنچ سکتی ہے۔ سٹرائڈر (سانس کی اونچی آواز) کی طرح سانس لینے میں مشکل بھی اچانک شروع
ہوسکتی ہے۔
بیماری کی دوسری یا تیسری رات کو کروپ کی علامات اکثر بگڑ جاتی ہیں۔
بھونکنے جیسی کھانسی ایک ماہ تک رہ سکتی ہے۔
ہلکا کروپ
Mild croup
اگر آپ کے بچے کو ہلکا کروپ ہے تو ممکن ہے:
- اسے کھانسی ہو اور آواز بیٹھی ہوئی ہو لیکن اسے آسانی سے سانس لینے کے قابل ہونا چاہیے اور سانس لینے کی آواز اونچی نہیں ہونی چاہیے۔
درمیانہ کروپ
Moderate croup
اگر آپ کے بچے کو درمیانہ کروپ ہے تو ممکن ہے:
- اسے کھانسی ہو اور آواز بیٹھی ہوئی ہو
- اسے بولنا یا سانس لینا مشکل لگے
- جب بچہ بے چین ہو یا رو رہا ہو تو سانس اندر کھینچتے ہوتے ہوئے باریک سیٹی جیسی، اونچی پِچ والی آواز آئے لیکن پرسکون حالت میں اس کے سانس کھینچنے کی آواز ایسی نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کا سانس کا راستہ جزوی طور پر بند ہوتا
ہے۔
شدید کروپ
Severe croup
اگر آپ کے بچے کو شدید کروپ ہو تو ممکن ہے:
- اسے کھانسی ہو اور آواز بیٹھی ہوئی ہو
- اسے بولنا مشکل لگتا ہو اور آواز پھٹی ہوئی ہو
- آرام کرتے ہوئے بھی، بچے کے سانس اندر کھینچنے کی آواز اونچی، سیٹی جیسی ہو
- اسے سانس لینے کے لیے بہت زور لگانا پڑتا ہو اور سانس لیتے ہوئے پسلیوں کے درمیان جلد یا گلے کے نیچے کی ِجلد اندر کھنچ جاتی ہو
- بچہ خوفزدہ یا بے چین نظر آتا ہو
- بچہ آسانی سے سانس لے پانے کی خاطر اپنی پوزیشن بدلتا ہو – اکثر آگے کو جھک کر۔

Figure one: Illustration showing how croup affects the airway. Image shared with permission from Nemours KidsHealth
کروپ کی دیکھ بھال
How to care for croup
- اپنے بچے کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ موڈ بگڑنے یا رونے پر سانس لینا عام طور پر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
- بچے کو کافی آرام کرنے کی ترغیب دیں؛ اس کے جسم کو وائرس سے لڑنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- یہ یقینی بنائیں کہ بچہ کافی مقدار میں پینے کی چیزیں لیتا رہے۔
- اگر بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو تو اسے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ ڈاکٹر سانس کے راستے کی سوجن کم کرنے کے لیے سٹیرائڈز تجویز کر سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کا کروپ پر اثر نہیں ہو گا کیونکہ کروپ وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کروپ میں بچے کی کیفیت تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے یہ اہم ہے کہ آپ بچے کی حالت بگڑنے کی علامات پر نظر رکھیں۔ یہ تبدیلی اکثر رات کو ہوتی ہے لہذا بچے کے بالکل پاس رہنے کی کوشش کریں تاکہ آپ اس کی آوازیں سن سکیں۔
اگر آرام کرتے ہوئے بچے کو سٹرائڈر ہو (سانس کی آواز اونچی ہو) تو اکثر ایسے بچوں کو ہسپتال میں بھرپور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو یا سانس کی آواز اونچی ہو، رنگت بہت پھیکی ہو اور وہ غنودگی میں لگتا ہو، ہونٹ نیلے ہوں یا وہ نگل نہ سکتا تو فوراً ایمبولینس (000) کو کال کریں۔
مدد کب طلب کی جائے
When to get help
اس صورت میں ایمبولنس (000) کو کال کریں کہ:
- بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو یا اسے سٹرائڈر ہو (سانس کی آواز اونچی ہو)۔
- بچہ بہت بیمار، پیلاہٹ زدہ اور غنودگی کا شکار نظر آتا ہو۔
- بچے کے ہونٹ نیلے نظر آتے ہوں۔
- بچے کی رال بہنے لگے یا وہ نگل نہ سکتا ہو۔
اس صورت میں ہسپتال جائیں کہ:
- بچے کو آرام کرتے ہوئے اور پرسکون حالت میں سٹرائیڈر ہو (سانس کی آواز اونچی ہو)۔
- آرام کرتے ہوئے سانس لینے پر بچے کی پسلیوں کے درمیان ِجلد یا گلے کے نیچے کی جلد اندر کھنچتی ہو۔
اس صورت میں ڈاکٹر یا ہیلتھ پروفیشنل کے پاس جائیں کہ:
- بچے کو موڈ بگڑا ہونے یا رونے پر سٹرائڈر ہوتا ہو (سانس کی آواز اونچی ہو)۔
- بچے کی علامات بگڑ رہی ہوں۔
- آپ کو فکر ہو کہ بچے کے جسم میں پانی کی کمی ہو گئی ہے۔
- آپ کسی بھی اور وجہ سے فکرمند ہوں۔
اس صورت میں گھر پر ہی اپنے بچے کا خیال رکھیں اگر:
- آرام کرتے وقت بچے کے لیے سانس لینا آسان ہو۔
- بچہ پینے کی چیزیں کافی مقدار میں لے رہا ہو۔
- بچہ پوری طرح ہوشمند ہو اور آپ کے ساتھ بات کر سکتا ہو۔
کروپ کے بارے میں عام سوالات
Common questions about croup
کیا کروپ ایک انسان سے دوسرے کو لگتا ہے؟
Is croup contagious
اگرچہ کروپ متعدّی یعنی ایک انسان سے دوسرے کو لگنے والی بیماری نہیں ہے لیکن کروپ پیدا کرنے والے وائرس متعدّی ہوتے ہیں۔ یہ وائرس بنیادی طور پر اس وقت پھیلتے ہیں جب کوئی متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے۔ کروپ کے پھیلاؤ کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے
کہ آپ اپنے بچے کو حفظان صحت کی اچھی عادتیں ڈالیں جیسے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا اور کھانسی کو ڈھانپنا۔
کونسے وائرس کروپ کا سبب بنتے ہیں؟
Which viruses cause croup
کئی مختلف وائرس کروپ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسے سب سے عام وائرس پیرا انفلوئنزا اور respiratory syncytial virus (RSV) ہیں۔
کیا مجھے کروپ کے علاج کے لیے بھاپ استعمال کرنی چاہیے؟
Should I use steam to treat croup
اب کروپ کے علاج کے لیے بھاپ لینے کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ ماضی میں کچھ ڈاکٹر کروپ کے لیے بخارات یا بھاپ لینے کی تھراپی اور ویپرائزر (vaporisers) کا استعمال تجویز کرتے تھے۔ اب سائنسی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاج فائدہ مند نہیں ہیں۔
کیا بڑے بچوں کو کروپ ہو سکتا ہے؟
Can older children get croup
بڑے بچوں کو کروپ ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر چھ سال کی عمر کے بعد یہ نہیں ہوتا۔
کروپ کتنا عرصہ رہتا ہے؟
How long does croup last
کروپ عام طور پر دو سے چار دنوں/راتوں تک رہتا ہے۔ زیادہ تر علامات ایک ہفتے تک رہتی ہیں لیکن کھانسی ایک ماہ تک رہ سکتی ہے۔
میرے بچے کو سٹرائڈر ہوتے چار دن سے زیادہ گزر گئے ہیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟
My child's stridor has lasted longer than four days. What should I do
اگر آپ کے بچے کا سٹرائڈر چار دن سے زیادہ چلتا رہے - سانس کی اونچی، سیٹی جیسی آواز رہے - تو آپ کو ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔ یہ غیر معمولی بات ہے۔
کیا میرا بچہ کروپ کے ساتھ چائلڈ کیئر یا سکول میں جا سکتا ہے؟
Can my child go to childcare or school when they have croup
جب تک بچے میں بخار، ناک بہنے یا کھانسی کی علامات ہوں، بہتر ہے کہ اسے چائلڈ کیئر یا سکول نہ بھیجا جائے۔ جب یہ علامات بہتر ہو جائیں تو بچہ دوبارہ معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے
For more information
رائل چلڈرنز ہاسپٹل کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے جنرل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے مشورے سے مرتّب کیا۔ ہم RHC کے صارفین اور کیئررز کے تعاون پر شکرگزار ہیں۔
مئی 2025 میں نظر ثانی کی گئی
براہ کرم ہمیشہ رجسٹرڈ اور حال میں پریکٹس کرتے ہوئے معالج سے تازہ ترین مشورہ حاصل کریں۔